وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پیر کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیاکہ پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی رہائش گاہ کی دیوار پھلانگ کر اپنے پڑوسی کے گھر فرار ہو گئے، ،
رانا ثناء اللہ کی یہ پریس کانفرنس اس وقت سامنے آئے جب اسلام آباد پولیس کی ایک ٹیم پی ٹی آئی کے سربراہ کو گرفتار کرنے کے لیے لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک آئی - قانون نافذ کرنے والے اہلکار بغیر کسی گرفتاری کے واپس لوٹ گئے کیونکہ پارٹی کے رہنما جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے بتایا کہ عمران خان"گھر نہیں تھے"۔
28 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس میں مسلسل عدالت میں پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
وزیر نے اعتراف کیا کہ اگر پولیس سابق وزیر اعظم کو گرفتار کرنا چاہتی ہے تو یہ مناسب حکمت عملی نہیں تھی۔ "پولیس اسے عدالت کے احکامات کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے وہاں گئی تھی۔ لیکن وہ ایک بے شرم شخص ہے۔"
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ جب حکام انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنا چاہیں گے تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسا کریں گے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ جب توشہ خانہ تحائف کی بات آئی تو عمران خان نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ معزول وزیر اعظم – جنہیں گزشتہ سال اپریل میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں – کو عدالت کے سامنے جواب نہ دینا پڑے ۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر عدالت عمران خان کو بری کرتی ہے تو ہم اسے قبول کر لیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انہیں گرفتار کرنے کی کوئی خواہش نہیں لیکن وہ عدالتوں میں اپنی پیشی یقینی بنائے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.