بلوچستان کے علاقے بولان میں پیر کے روز ایک دھماکے
میں بلوچستان کانسٹیبلری کے نو اہلکار شہید اور نو زخمی ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک "خودکش" دھماکہ کنبری پل کے قریب سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کو لے جانے والے ٹرک کے قریب ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زوردار دھماکے کی وجہ سے ٹرک الٹ گیا۔
پولیس نے بتایا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار سبی میں ایک کارنیول میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد واپس کوئٹہ آرہے تھے۔
ادھر کچھی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) محمود نوتزئی نے کہا کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل ٹیم جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور دھماکے کے بعد علاقے کی تلاشی لی جا رہی ہے
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرکے صوبے کو ترقی سے روکنے کی سازش کی جارہی ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کے تعاون سے ان تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
کوئٹہ کے سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام عملہ بشمول کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز، فارماسسٹ اور پیرامیڈیکس کو ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام عملہ اور ڈاکٹر جنرل اور ایمرجنسی وارڈز اور آپریشن تھیٹرز میں موجود تھے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.