واشنگٹن / کاراکاس، 5 جنوری :- امریکی افواج نے ایک غیر معمولی فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا تھا، جنہیں پیر کے روز نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وینزویلا نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو مزید فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔نکولس مادورو کو ہفتے کے روز دارالحکومت کاراکاس میں ایک امریکی فوجی چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سمیت کئی ممالک نے کسی خود مختار ملک کے سربراہ کی گرفتاری پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر وینزویلا نے اپنے تیل کے شعبے کو امریکی کمپنیوں کے لیے نہ کھولا اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کولمبیا اور میکسیکو میں بھی فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا جبکہ کیوبا کی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی کی۔ ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “ہم وہ سب واپس لے رہے ہیں جو ہم سے چھینا گیا تھا۔ اب کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی اور عالمی تیل کمپنیاں وینزویلا واپس آئیں گی اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پیٹرولیم انڈسٹری کو بحال کیا جائے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی رہی۔ 63 سالہ نکولس مادورو پر امریکا میں 2020 سے منشیات جن میں کوکین اسمگلنگ اور جرائم پیشہ تنظیموں کی سرپرستی کے الزامات ہیں۔ امریکی استغاثہ کے مطابق مادورو نے سینالوا کارٹیل اور ٹرین ڈی آراگوا گینگ جیسے گروہوں کی مدد کی۔حالیہ اپ ڈیٹ میں ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پر بھی اغوا اور قتل کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔مادورو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کی سماعت میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب وینزویلا میں مادورو کی حکومت بدستور قائم ہے۔ نائب صدر ڈیلسے رودریگز نے خود کو عبوری رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مادورو ہی آئینی صدر ہیں اور انہوں نے ایک سوال کے جواب میں امریکا کے ساتھ کسی خفیہ تعاون کے دعوؤں کو مسترد کیا۔ امریکا 2018 کے صدارتی انتخابات کے بعد سے مادورو کو ناجائز حکمران قرار دیتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اپوزیشن رہنما اور نوبیل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کی حمایت سے بھی انکار کیا ہے۔ ماچادو کے مطابق 2024 کے انتخابات میں ان کے اتحادی ایڈمنڈو گونزالیز کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی کارروائی پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اقدام کو “خطرناک مثال” قرار دیا۔ امریکہ میں حزبِ اختلاف ڈیموکریٹس نے بھی حکومت پر وینزویلا پالیسی کے حوالے سے گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کانگریس کو بریفنگ دینے والے ہیں۔ ایک وقت لاطینی امریکا کا خوشحال ملک سمجھا جانے والا وینزویلا گزشتہ دو دہائیوں میں شدید معاشی بحران کا شکار رہا ہے، جس کے باعث تقریباً 20 فیصد آبادی ملک چھوڑ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مادورو کی گرفتاری خطے میں مزید عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر وینزویلا نے اپنے تیل کے شعبے کو امریکی کمپنیوں کے لیے نہ کھولا اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کولمبیا اور میکسیکو میں بھی فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا جبکہ کیوبا کی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی کی۔ ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “ہم وہ سب واپس لے رہے ہیں جو ہم سے چھینا گیا تھا۔ اب کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی اور عالمی تیل کمپنیاں وینزویلا واپس آئیں گی اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پیٹرولیم انڈسٹری کو بحال کیا جائے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی رہی۔ 63 سالہ نکولس مادورو پر امریکا میں 2020 سے منشیات جن میں کوکین اسمگلنگ اور جرائم پیشہ تنظیموں کی سرپرستی کے الزامات ہیں۔ امریکی استغاثہ کے مطابق مادورو نے سینالوا کارٹیل اور ٹرین ڈی آراگوا گینگ جیسے گروہوں کی مدد کی۔حالیہ اپ ڈیٹ میں ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پر بھی اغوا اور قتل کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔مادورو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کی سماعت میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب وینزویلا میں مادورو کی حکومت بدستور قائم ہے۔ نائب صدر ڈیلسے رودریگز نے خود کو عبوری رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مادورو ہی آئینی صدر ہیں اور انہوں نے ایک سوال کے جواب میں امریکا کے ساتھ کسی خفیہ تعاون کے دعوؤں کو مسترد کیا۔ امریکا 2018 کے صدارتی انتخابات کے بعد سے مادورو کو ناجائز حکمران قرار دیتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اپوزیشن رہنما اور نوبیل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کی حمایت سے بھی انکار کیا ہے۔ ماچادو کے مطابق 2024 کے انتخابات میں ان کے اتحادی ایڈمنڈو گونزالیز کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی کارروائی پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اقدام کو “خطرناک مثال” قرار دیا۔ امریکہ میں حزبِ اختلاف ڈیموکریٹس نے بھی حکومت پر وینزویلا پالیسی کے حوالے سے گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کانگریس کو بریفنگ دینے والے ہیں۔ ایک وقت لاطینی امریکا کا خوشحال ملک سمجھا جانے والا وینزویلا گزشتہ دو دہائیوں میں شدید معاشی بحران کا شکار رہا ہے، جس کے باعث تقریباً 20 فیصد آبادی ملک چھوڑ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مادورو کی گرفتاری خطے میں مزید عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.