جمعرات کو انٹربینک میں ابتدائی تجارت کے دوران ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 2.62 روپے کا اضافہ ہوا۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (FAP) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر کل 232.12 روپے پر بند ہونےکے بعد آج صبح 11:30 بجے جب مارکیٹ کھلی تو 229.5 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں 1.12 فیصد اضافہ ہوا ۔
آج لگاتار پانچواں سیشن ہے جب روپے کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے روپے کی قدر میں 7.59 روپے یا 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسحاق ڈار، جو اس سے قبل بھی تین بار وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، مرکزی بینک کو مضبوط کرنے کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں ۔
"حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست مخالف عناصر جیسے کہ قیاس آرائیاں کرنے والوں کو فائدہ ہوا۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ اپ ٹرینڈ تبدیل نہ ہو۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کو طویل عرصے سے زرمبادلہ کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس سال 30 سے 40 بلین ڈالر کی ادائیگیاں کرنی تھیں، پر اب تک صرف 10 ارب ڈالر کے انتظامات کیے گئے تھے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو درآمدات کو کم کرنا چاہیے اور برآمدات میں اضافہ کرنا چاہیے اور افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارت اور امیگریشن پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ ان سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.