تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

یہ بلاگ تلاش کریں

Translate

Navigation

Recent

وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب!!

وزیراعظم شہباز شریف نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے گزشتہ روز خطاب کیا، وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی آیات تلاوت سے کیا۔


وزیراعظم شہباز شریف نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے گزشتہ روز خطاب کیا، وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی آیات تلاوت سے کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جب میں اپنے ملک پاکستان کا احوال سنانے کے لئے یہاں کھڑا ہوں لیکن میرا دل و دماغ اس وقت بھی میرے ملک میں ہے ،ہم جس صدمے سے گزر رہے ہیں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں موسمیاتی آفت سے آنے والی تباہی کے بارے میں دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے یہاں آیا ہوں جس سے میرے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 40  دن اور 40 راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں جن میں ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، بہت بڑی آبادی اب بھی بہت سی بیماریوں اور غذائی قلت کے خطرے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا،370 چھوٹے بڑے پل تباہ ہوئے جس کی وجہ سےمختلف علاقوں کا آپس سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے ، سیلاب کی وجہ سے 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ،چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں۔ ، لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعہ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لئے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے،ایسی قدرتی آفت کو پاکستان میں پہلے نہیں دیکھا ،ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے ، پاکستان کا اس میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ، ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی جہاں زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟، ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر 53  ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے جو پاکستان کو کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کے دورے پر شکرگزار ہوں، سیکرٹری جنرل نے اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ کا حصہ بھی ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر خرچ کر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین میں 70 ارب کی رقم تقسیم کی گئی۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے مظلوم کشمیری عوام کا حق غصب کرنے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنادیا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، تنازعات کو پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے، ہمیں اپنے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب میں پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور چیلنجز، تنازعہ کشمیر، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم، پاک بھارت تعلقات ، فلسطین اور اہم عالمی تنازعات، افغانستان کی صورتحال، اسلاموفوبیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سمیت تمام اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کا احاطہ کیا اور پاکستان کے موقف اور نقطہ نظر سے دنیا کو آگاہ کیا۔

Share
Banner

Post A Comment:

0 comments:

If you share something with us please comment.

سعودی قرضے کو JF-17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر پاکستان اور سعودی عرب میں مذاکرات؟

  اسلام آباد: نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے ...