پیر کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چینی اور بھارتی فوجیوں نے 30 جون کو کمانڈر کی سطح کے مذاکرات کا تیسرا دور منعقد ہوا۔ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ وہ اس سے قبل کمانڈر سطح کے منعقدہوئے مذاکرات کے دو ادوار میں ہونے والے معاہدے کو عملی جامہ پہنائیں گے اور ہم نے سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔
اس کے بہت سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ پہلا اہم سوال یہ ہے کہ اگر انڈین فوج اپنی ہی سرزمین پر تھی تو وہ پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے
نیپال کی تری بھوون یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر پشپ ادھیکاری کا خیال ہے کہ اگر انڈین فوج پیچھے ہٹ رہی ہے اس کی وجہ بین الاقوامی دباؤ بھی ہوسکتی ہے۔
ادھیکاری نے کہا: پہلے تو میں یہ نہیں مانتا کہ گلوان کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں جو کچھ آرہا ہے وہ مکمل طور پر درست ہے۔ لیکن اگر ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ ہو رہا ہے تو پھر میرے مطابق بین الاقوامی دباؤ اس کے لیے ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انڈیا یہ سمجھنا چاہتا ہو کہ اس کی عسکری صلاحیت کتنی ہے، اس کی وجہ سے انڈین حکومت یہ قدامات لے سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں،اس وقت پورے برصغیر میں تعطل کی فضا تیار ہو رہی ہے اور یہ کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ اور کیا دنیا کی دو بڑی معیشتوں اور آنے والے سپر پاور کو آپس میں ٹکرانا چاہیے؟ یہ دونوں ممالک جانتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسا نظر آتا ہے کہ انڈیا چین تعلقات کے معاملے میں ایک نیم تعطل ہے اور آنے والے وقت میں اس میں کئی موڑ نظر آ سکتے ہیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.