رپورٹ میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جب کہ پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کارکو بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ بلیک باکس ڈیٹا سے طیارہ میں کسی فنی خرابی کے شواہد نہیں ملے ابتدائی رپورٹ میں حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہ ظاہر کیا گیا حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں پائلٹس اور اے ٹی سی عملہ کی تواتر سے غلطیوں کی نشاندہی کی گئی، پہلی لینڈنگ پر جہاز 9 ہزار میٹر کے رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا، پائلٹ دوبارہ اڑا کر لے گیا، پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا، اس دوران انجن فیل ہوگئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی پر آرہا تھا، لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ ہائیٹ سے زیادہ تھی، پہلی ناکام لینڈنگ کے 12 گھنٹے بعد تک جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے، ایئر سائٹ یونٹ نے اکھٹے نہیں کئے، قانون کے مطابق حادثہ کے بعد اے ٹی سی عملہ کو ریلیوو کر دینا چاہئے تھے لیکن شام سات بجے تک مکمل ڈیوٹی کروائی گئی۔
دوسری جانب فرانس سے آنے والی تحقیقاتی ٹیم نے بلیک باکس ڈی کوڈنگ کی رپورٹ مرتب کرکے پی آئی اے حکام کو دی تھی جب کہ پہلی مرتبہ کسی بھی طیارہ حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی میں منظرعام پر لائی جائے گی، طیارے حادثے کی ابتدائی رپورٹ آج وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی وفاقی وزیر ہوا بازی ان کو رپورٹ پیش کریں گے۔
اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان سمیت متعلقہ حکام کی جانب سے حادثے کی ہر پہلو پر تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اعلان کیا تھا کہ طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ دارن کو سامنے لایا جائے گا



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.