تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

یہ بلاگ تلاش کریں

Translate

Navigation

Recent

وفاقی وزیرحماد اظہر نے بجٹ پیش کردیا




وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا جس میں نیا ٹیکس تونہیں لگایا گیا ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔
پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہے۔
پچھلےسال کے مقابلے رواں سال دفاعی بجٹ میں 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، تاہم گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں یہ 61 ارب کا اضافہ ہے
سگار اور سگریٹ کی  قیمت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے جبکہ  کیفین والے انرجی ڈرنکس پر 25 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی ہے۔ ای سگریٹ اور درآمدی مشینری پر ٹیکس کی شرح بڑھادی گئی ہے.
عوام کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے پاکستان ریلوے کے لیے 40 ارب روپے، تعلیم کے لیے 30 ارب روپے، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب، توانائی اور بجلی کے لیے 80 ارب، خوراک و زراعت کے لیے 12 ارب، موسمیاتی تبدیلی کے لیے 6 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے اور قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب رکھے گئے ہیں۔
حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح کورونا وائرس سے متعلقہ 61 اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیصی کٹس پر ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کر دی گئی ہے۔
کورونا سے متعلقہ صحت عامہ کی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ میں تین ماہ کی توسیع بھی کی گئی ہے جبکہ جان بچانے والی دوا مگلمائن انٹی مونیٹی پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔
 کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ڈی پی میں منصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے جاری منصوبوں کے لیے 73 فیصد اور نئے مںصوبوں کے لیے 27 فیصد رقم مختص کی گی ہے۔
اس کے علاوہ طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ کی تقریر کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بینرز لہرائے گئے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے جبکہ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔
ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس بجٹ کا کل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Share
Banner

Post A Comment:

0 comments:

If you share something with us please comment.

سعودی قرضے کو JF-17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر پاکستان اور سعودی عرب میں مذاکرات؟

  اسلام آباد: نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے ...