تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

یہ بلاگ تلاش کریں

Translate

Navigation

Recent

حکومت کے پاس وقت بہت کم فواد چوہدری کا انٹرویو میں انکشاف



فواد چوہدری نے امریکی خبر ایجنسی وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئیں۔ یہ توقعات نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لیے تھیں اس لیے اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پیمانہ دوسروں سے مختلف ہے۔ اس میں ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈیلیور نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے سے پہلے نظام میں تبدیلی کے بارے میں عمران خان کے خیالات واضح تھے۔ لیکن جب حکومت بنی تو جہانگیر ترین، شاہ محمود اور اسد عمر میں اتنے جھگڑے ہوئے کہ سارا سیاسی طبقہ کھیل سے باہر ہو گیا۔
فواد چوہدری کے بقول جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے فارغ کرایا تھا۔ اسد عمر دوبارہ آئے تو انہوں نے جہانگیر ترین کو فارغ کرا دیا۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی ملاقاتیں ہوئیں لیکن بات نہیں بنی۔ سیاسی خلا ان نئے لوگوں نے پُر کیا جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ فوج کا  کردار بڑھ گیا ہے اور سویلینز کو زیادہ موقع دینا چاہیے لیکن آپ اپنی پارلیمانی قیادت کو دیکھیں۔ پھر صوبائی قیادت کو دیکھیں۔ ایسی قیادت کے ساتھ کیسے سویلین بالادستی ہو سکتی ہے؟ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی توسمجھ آتی تھی کہ انھوں نے کمزور لوگوں کو اہم عہدوں پر لگایا کیونکہ ان کا مقصد قیادت کو اپنے بچوں کو منتقل کرنا تھا۔ عمران خان کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ انھیں تو بہترین لوگوں کو عہدے دینے چاہیے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھیں کس نے مشورہ دیا کہ کمزور لوگوں کو لگائیں جو ہر بات کی ڈکٹیشن لیں۔ اس کا عمران خان کی ذات کو نقصان پہنچا ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے۔ ایک سیاست پر اور دوسرے گورننس پر۔ ان دونوں میں توازن قائم نہ رہے تو معاملات کسی وقت بھی قابو سے باہر نکل جاتے ہیں۔ عمران خان کو اس بات کا پورا احساس ہے۔ انھوں نے کابینہ اجلاس میں بھی کہا کہ آپ کے پاس چھ ماہ ہیں کام کرنے کے لیے۔ اس کے بعد وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اطلاعات کی وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد میں نے کہا کہ مجھے وزارت نہیں چاہیے، صرف ایم این اے ہی رہنے دیں۔ لیکن معاون خصوصی زولفقار بخاری نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ آپ دوسری وزارت لیں۔ انھوں نے کئی وزارتوں کے نام لیے تو میں نے سائنس و ٹیکنالوجی لے لی۔ تین ماہ میں مجھے اندازہ ہوا کہ اس وزارت میں بہت زیادہ کام کرنے کی گنجائش ہے ۔ وزارت اطلاعات میں غلطیاں دوسرے کرتے ہیں اور جواب آپ کو دینا پڑتا ہے اور ایسی باتیں کہنی پڑتی ہیں جو آپ کہنا بھی نہیں چاہتے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں صوبوں سے اختیارات بلدیات تک منتقل کیے گئے تھے لیکن مرکز سے اختیارات صوبوں کو منتقل نہیں کیے گئے۔ اٹھارہویں ترمیم نے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کر دیے لیکن صوبوں نے بلدیات کے اختیارات بھی خود لے لیے۔ دو عہدے اس وقت تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری۔ یہ وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔
Share
Banner

Post A Comment:

0 comments:

If you share something with us please comment.

سعودی قرضے کو JF-17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر پاکستان اور سعودی عرب میں مذاکرات؟

  اسلام آباد: نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے ...