صوبائی وزیر غلام مرتضی بلوچ گزشتہ ماہ 12 مئی کو کورونا کے شکار ہوئے تو ان صوبائی وزیر کا انتقال پورا صوبہ غم سے نڈھال ہوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا ، 14 مئی کو جس کی رپورٹ مثبت آئی۔ وائرس کی تشخیص کے بعد کچھ دن وہ گھر میں آئیسولیٹ رہے اور طبیعت کی مسلسل خراب رہنے پر انہیں نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔
اگر ان کی ذاتی زندگی کی بات کرے تو وہ ان کی عمر 55 سال تھی اور وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے گریجویشن کراچی سے کی تھی۔وہ پیپلز پارٹی کے بہت اہم کارکن اور رہنما تھے۔وہ دو مرتبہ گڈاپ ٹائون کے ناظم منتخب ہوئے۔ اور 2013 میں ملیر کے حلقہ 127 سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے اور 2018 کے عام انتخابات میں ملیر سے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 88 سے فتح حاصل کی ۔ غلام مرتضی بلوچ صوبائی حکومت کی جانب سے ملیر میں کورونا کے تدارک کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے انچارج بھی تھے۔ غلام مرتضیٰ بلوچ شادی شدہ اور ان کے چھ بچے ہیں۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں۔ ان کی ایک فیملی لندن میں مقیم ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی وزیر کے موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلام مرتضٰی بلوچ کی وفات کا شدید صدمہ ہوا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی وہ عوامی خدمت میں پیش پیش رہے۔ انہوں نے ہر دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ دیا۔ ہم ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی صوبائی وزیر کے انتقال پردکھ کا اظہار کیا ہے۔
مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں فقیر محمد گوٹھ گڈاپ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں خاندان کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیر سعید غنی، سلمان عبدللہ مراد رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، اور پارٹی کارکنان و علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شامل تھی ۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.