تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

یہ بلاگ تلاش کریں

Translate

Navigation

Recent

PTI کا اہم فیصلہ،قومی کانفرنس کا اعلان ؟

پی ٹی آئی سے منسلک TTAP نے 20 اور 21 دسمبر کو قومی کانفرنس کا اعلان کر دیا ہے، جس میں سیاسی جماعتیں، وکلاء تنظیمیں، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندگان شر

"PTI announces national conference amid rising political instability in Pakistan"

 اسلام آباد میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (TTAP) جو پاکستان تحریک انصاف سے منسلک پلیٹ فارم ہےنے اعلان کیا ہے کہ ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اس ماہ 20 اور 21 دسمبر کو ایک بڑی قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا تاکہ پاکستان کے لیے ایک مشترکہ قومی ایجنڈا ترتیب دیا جا سکے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور PTI رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ملک اس وقت “سنگین عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال” کا شکار ہے اور یہی حالات ایک وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس میں سیاسی جماعتیں، وکلاء تنظیمیں، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان اور دیگر اہم حلقے شریک ہوں گے تاکہ قومی مسائل کے حل کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

اس اقدام کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سابق وزیراعظم عمران خان پر ریاست اور فوج کے مخالف بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید تناؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) ملک کو درپیش بڑے بحرانوں خصوصاً سرحدی کشیدگی، بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے انخلا کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک واضح اور قابلِ عمل قومی حکمت عملی پیش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں تجارت اور سرمایہ کاری تیزی سے سکڑ رہی ہے، جس کے اثرات مجموعی معیشت پر پڑ رہے ہیں، جبکہ سیاسی عدم استحکام نے ملکی فضا کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے ایسا لائحہ عمل دینا ہے جس پر وسیع اتفاقِ رائے پیدا ہو سکے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک ایسے فورم کی ضرورت ہے جو مختلف طبقات کو اکٹھا کر کے ملکی درجۂ حرارت کم کرے اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کا راستہ کھولے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کی جانب سے قومی کانفرنس بلانے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ سابق حکمران جماعت اپنی سیاسی پوزیشن دوبارہ مستحکم کرنے اور خود کو قومی دھارے کا اہم حصہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ اقدام ملکی سیاست میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے سیاسی اور ادارہ جاتی اسٹیک ہولڈرز اس دعوت کا کس حد تک مثبت جواب دیتے ہیں۔

Share
Banner

تازہ خبر

Post A Comment:

0 comments:

If you share something with us please comment.

سعودی قرضے کو JF-17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر پاکستان اور سعودی عرب میں مذاکرات؟

  اسلام آباد: نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے ...