پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں بدھ کو اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب حکومتی اراکین نے ترجمان پاک فوج کے عمران خان اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ "توہین آمیز" بیان پر سخت ردعمل دیا۔
ڈپٹی اسپیکر سریا بی بی کی سربراہی میں اجلاس کے دوران اس وقت شور شرابہ شروع ہو گیا جب اپوزیشن (ن) لیگ کی رکن صوبیہ شاہد نے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تصویر ایوان میں اٹھا کر دکھائی۔ڈپٹی اسپیکر نے فوری طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کو تصویر ہٹانے کا حکم دیا اور صوبیہ شاہد کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’سی ڈی ایف فوج کی نمائندگی کرتے ہیں، آپ کی جماعت کی نہیں۔ آپ کو بطور رکن اپنی کارکردگی پر بات کرنی چاہیے۔‘‘ اس ہنگامے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
اس سے پہلے حکمران جماعت کے اراکین نے کہا کہ ملک سنگین مسائل کمزور امن و امان، مالی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور بیرونی چیلنجز اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک ’’گھر کے معاملات درست‘‘ نہ ہوں۔
تحریک انصاف کے ایم پی اے محمد اجمؔل خان نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس، خصوصاً عمران خان اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق بیانات سے خیبر پختونخوا کے عوام میں غم و غصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کے ترجمان کو متنازع معاملات پر بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے ملک میں جاری سیاسی بحران مزید بڑھے گا۔انہوں نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حل نہیں اور عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی وفاقی حکومت، عمران خان اور عسکری قیادت کے درمیان مسائل حل کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔اجمل خان نے مزید کہا کہ ’’جب گھر کے مسائل حل ہو جائیں، تو افغانستان کے ساتھ دیرپا امن کے لیے بات چیت ممکن ہو سکے گی۔‘‘
حکومتی رکن ہمّایوں خان نے کہا کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ریاست کے بنیادی ستون ہیں، لیکن ایک ادارہ خود کو ریاست سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ وہ کبھی ریاست نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ فوج کا قیام ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہوا تھا اور اسی کام کے لیے وہ بجٹ لیتی ہے۔
ہمّایوں خان نے فوج کے ترجمان کے پی ٹی آئی بانی اور وزیر اعلیٰ سے متعلق ’’توہین آمیز‘‘ بیانات کی سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ 8 مئی کو بھارت کے ساتھ جھڑپ میں اصل کارنامہ پاک فضائیہ نے انجام دیا تھا، اس لیے اس کے سربراہ کو فیلڈ مارشل بنایا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) کے عہدے کے قیام پر دوبارہ غور ہونا چاہیے۔
(ن) لیگ کے رکن شاہجہان یوسف نے کہا کہ عوام اپنی مسلح افواج پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے مئی کے تصادم میں بڑے دشمن کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی اراکین کو مرکز کے مسائل پر بات کرنی چاہیے جبکہ صوبائی اراکین کو صوبائی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سی ڈی ایف بننے پر مبارک باد بھی دی۔
ہاؤسنگ کے وزیر ڈاکٹر امجد علی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے والی عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کے استعمال کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جان بوجھ کر امن و امان کی صورت حال خراب کی جا رہی ہے اور حیرت ہے کہ حکومت کا تنخواہ دار ایک شخص سیاسی پریس کانفرنس کیسے کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج کا ترجمان اسی طرح پریس کانفرنسیں کرتا رہے تو عمران خان کی مقبولیت مزید بڑھے گی۔
دریں اثنا ایوان کو بتایا گیا کہ صوبے میں کارک (Karak) ضلع کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی میں یورینیم کی مقدار جانچنے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر فضل شکور خان نے کہا کہ ’’ہمارے پاس یہ ٹیسٹنگ سہولت نہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو خط لکھا ہے، جواب ملتے ہی ایوان کو آگاہ کریں گے۔‘‘
یہ بیان (ن) لیگ کی رکن فرح خان کے سوال کے جواب میں دیا گیا جنہوں نے ضلع کارک میں پینے کے پانی کی آلودگی کے باعث بلڈ اور بون کینسر سمیت گردوں کی بیماریوں میں تشویشناک اضافے پر سخت خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے پوچھا کہ آیا ضلع میں کوئی واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود ہے یا نہیں، اور کہا کہ شنوہ کودخیل علاقے میں بیماریاں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں اور صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.