لاہور/اسلام آباد ):- سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے والد کی صحت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان کو کئی ہفتوں سے ان کی حالت کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔
قاسم خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کی جانب سے ملاقاتیں طے ہونے کے باوجود خاندان کو عمران خان سے نہ ملاقات کرائی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی واضح معلومات دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پورے خاندان کے لیے شدید اذیت کا باعث بن چکی ہے۔ "نہ معلوم کہ والد محفوظ ہیں یا زخمی… یہ ذہنی اذیت ہے" قاسم نے اپنے پیغام میں لکھا: “یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ آپ کا والد محفوظ ہے، زخمی ہے یا زندہ ہے۔ ہم شدید خدشات میں مبتلا ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے “کچھ نا قابلِ واپسی بات ہم سے چھپائی جا رہی ہے”، جس نے خاندان کی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ خاندان نے یہ بھی شکوہ کیا ہے کہ عمران خان کی ذاتی معالج کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے ملاقات یا معائنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خاندان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ایک قیدی کے بنیادی طبی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ دوسری جانب ایک جیل اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان کی صحت “بالکل ٹھیک” ہے اور انہیں کسی نئی یا ہائی سیکورٹی جیل میں منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔تاہم خاندان کو حکام کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود براہِ راست ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر تحفظات برقرار ہیں۔ عمران خان کی صحت اور ممکنہ سہولیات کے فقدان سے متعلق اطلاعات نے سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود رابطے کا نہ ہونا مزید سوالات کھڑے کرتا ہے۔میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور… pic.twitter.com/c0dhujWiSO
— Kasim Khan (@Kasim_Khan_1999) November 27, 2025



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.