برلن: جرمنی کی حکومت نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کو پناہ دینے کے اپنے وعدے کو واپس لے لیا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 640 افراد جو پاکستان میں انتظار کر رہے ہیں، انہیں اطلاع دی جائے گی کہ “اب جرمنی ان کو پناہ دینے میں کوئی سیاسی دلچسپی نہیں رکھتا ہے”۔یہ واضح یو ٹرن چانسلر فریڈرِک مرز کے دور میں آیا ہے، جنہوں نے مہاجرین کے سلسلے میں سخت رویہ اپنایا ہے تاکہ دائیں بازو کی پارٹیوں سے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
یہ افراد زیادہ تر وہ افغان شہری ہیں جنہوں نے امریکی قبضے کے دوران جرمن فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔ نئے چانسلر فریڈرِک مرز کی حکومت نے اپنے سینٹرل-لیفٹ سابقہ حکومت کے دو پروگرام ختم کر دیے ہیں، جو خطرے میں لوگوں کو جرمنی میں پناہ دینے کے لیے بنائے گئے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو دھوکہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ افغان افراد کی زندگیاں خطرےمیں ہیں۔ Pro Asyl کے سربراہ کارل کوپ نے کہا کہ یہ فیصلہ “سرد یخ” ہےسابقہ حکومت نے یہ وعدہ صرف اس لیے کیا تھا کہ یہ لوگ افغانستان میں خواتین کے حقوق، انسانی حقوق اور آزادی کے لیے لڑے تھے اور متاثرہ افراد اب طالبان کے ہاتھوں آنے والے خطرات کا شکار ہیں۔نئی حکومت کے لیے ان لوگوں کے ساتھ اس شرمناک سلوک کا مطلب اخلاقی دیوالیہ پن ہے
چار سال قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومت نے ایسے پروگرام شروع کیے تھے جو خاص طور پر، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور جرمن فوج کے مقامی عملے کے لیے تھے۔ اپریل 2025 تک تقریباً 4,000 مقامی عملہ اور 15,000 اہل خانہ جرمنی منتقل ہو چکے تھے۔موجودہ حکومت نے اس پالیسی کو ختم کر دیا اور متاثرہ افراد کو رقم دینے کی پیشکش کی جو پناہ کے حق سے دستبردار ہوں۔ تاہم پچھلے مہینے صرف 62 افراد نے یہ پیشکش قبول کی۔
این جی اوز کے مطابق، جرمنی کے لیے منتقل ہونے کی منظوری پانے والے 1,800 افغان کئی مہینوں سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 250 سے زائد این جی اوز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تمام افراد کو سال کے آخر تک نکال لیں، جیسا کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے مقررہ ڈیڈ لائن ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.