سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی قوانین کی خلاف ورزیوں پر 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد ملک میں سیاسی بے چینی اور مبینہ سیاسی اشتعال انگیزی سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے تازہ بیان نے اشارہ دیا ہے کہ سابق خفیہ سربراہ پر قید کی سزا کے علاوہ بھی ایسے معاملات میں علیحدہ کارروائی ہو سکتی ہے جن کا تعلق سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر عدم استحکام پیدا کرنے سے جوڑا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سیاسی اشتعال انگیزی اور بے چینی پھیلانے میں ملزم کی مبینہ شمولیت کے معاملات کو الگ سے نمٹا جا رہا ہے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
فوجی ترجمان کے بیان نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کار صرف فوجی قوانین کی خلاف ورزیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں سیاسی روابط اور حالیہ برسوں میں ہونے والے احتجاجی واقعات کے پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل اگست 2024 میں آئی ایس پی آر نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ کچھ ریٹائرڈ افسران اور سیاسی شخصیات کے درمیان ایسے روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن پر انتشار پھیلانے کا الزام ہے۔ ترجمان نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا تھا کہ بعض ریٹائرڈ افسران نے ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں کیں۔
مزید یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مئی 2023 کے احتجاج اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد فیض حمید سمیت کئی عناصر کے ممکنہ کردار کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ان واقعات میں فوجی عمارتوں، یادگاروں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
سیاسی اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کے نئے بیان نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی اشتعال انگیزی کے الزامات پر مبنی ایک نئی قانونی کارروائی سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کن سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کی بات کی جا رہی ہیں اور کس نوعیت کے شواہد زیرِ غور ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کیس کے اثرات ملکی سیاست، سول ملٹری تعلقات اور مستقبل کی سیاسی صف بندی پر پڑ سکتے ہیں، کیونکہ فیض حمید کا نام گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سیاسی تنازعات میں بار بار سامنے آتا رہا ہے۔ ملک کی سیاسی فضا پہلے ہی کشیدہ ہے اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ تازہ پیش رفت اسے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.