اڈیالہ — نمائندہ خصوصی :- وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعرات کو سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا، جو رات بھر جاری رہا۔ یہ ملاقات کی ان کی مسلسل آٹھویں ناکام کوشش تھی۔وزیرِ اعلیٰ کے مطابق عدالت کے ایک تین رکنی بینچ نے ملاقات کی اجازت دی تھی، تاہم جیل انتظامیہ نے عدالتی حکم کو ہوا میں اڑتے ہوئے اس پر عمل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود ملاقات سے روکنا “قانون کی کھلی خلاف ورزی” ہے۔
دھرنے میں خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کے ارکان بھی شریک رہے اور وزراء نے احتجاجی مقام پر ہی فجر کی نماز بھی ادا کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ وہ آئینی اور قانونی حق کے تحت ملاقات چاہتے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ہر بار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ذرائع کے مطابق ملاقات کی درخواستیں مسلسل مسترد ہونے سے حکومتی و عدالتی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف سیاسی تناؤ بڑھایا جا رہا ہے بلکہ عدالتی احکامات کی عملداری کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے مطابق اپنے حق کا مطالبہ جاری رکھیں گے اور ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر دوبارہ احتجاج کا امکان بھی رد نہیں کیا۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.