اسلام آباد: علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست دائر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ علیمہ خان کو اپنے بھائی، سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ عدالت نے پہلے ہی ہفتے میں دو دن ملاقات کے احکامات جاری کیے تھے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کو جرم تسلیم کیا جائے اور ملاقاتیں فوری طور پر یقینی بنائی جائیں۔ اس کے ساتھ درخواست میں جیل سپرنٹنڈنٹ، سٹیشن ہاؤس افسر، اور متعلقہ انٹرئیر و ہوم ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو نامزد کیا گیا ہے۔
PTI کے کارکنان اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت کے احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا اور رات دیر تک جیل کے باہر دھرنا دیا۔ یہ احتجاج علیمہ خان کے قانونی اقدام کی حمایت میں تھا اور اس دوران کارکنان نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر عمران خان سے ملاقات کے حق کی حمایت میں نعرے درج تھے۔
واضح رہے کہ عمران خان موجودہ وقت میں اڈیالہ جیل میں مختلف مقدمات کے تحت قید ہیں، اور ان سے ملاقات کی اجازت صرف عدالتی حکم کے مطابق دی جا سکتی ہے۔ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے اور یہ اقدام انسانی حقوق اور قانونی ضوابط کے منافی ہے۔
عدالت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد اس درخواست پر سماعت کریں گے اور ملاقات کے احکامات کو مؤثر بنانے کے لیے فوری ہدایات جاری کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر عدالت نے علیمہ خان کی درخواست پر مثبت فیصلہ دیا تو جیل انتظامیہ کو عدالت کے احکامات کے مطابق عمل کرنا پڑے گا، ورنہ قانونی کارروائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.