واشنگٹن :-وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر فائرنگ کے ایک سنگین واقعے نے امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں، جہاں ایک افغان نژاد شخص نے گھات لگا کر دو نیشنل گارڈز پر حملہ کیا۔ FBI نے حملہ آور کے ممکنہ محرکات، پس منظر اور رابطوں کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بدھ کی شام (Thanksgiving) سے ایک روز قبل ہونے والی فائرنگ میں دونوں اہلکار شدید زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت رحمان اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو 2021 میں امریکہ آئے افغان تارک وطن پروگرام کے تحت ملک میں داخل ہوا تھا۔ فائرنگ کے دوران جوابی کارروائی میں وہ بھی زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ حملہ آور کی سرگرمیوں، کسی گروہ سے ممکنہ تعلق اور اس کے ذاتی یا نظریاتی محرکات تک پھیلایا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد امریکی حکومت نے افغان تارکین وطن سے متعلق زیر التوا امیگریشن درخواستوں پر عارضی نظرِ ثانی کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ سیکیورٹی کلیئرنس کے طریقہ کار کو مزید سخت کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو “نفرت اور دہشت کا عمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت امیگریشن سسٹم، خصوصاً 2021 کے پروگرام کے تحت آنے والے افراد کی دوبارہ جانچ کا عمل شروع کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر مزید سخت اقدامات جلد سامنے لائے جائیں گے۔
واشنگٹن پولیس، نیشنل گارڈ، ہوم لینڈ سیکیورٹی اور FBI مشترکہ طور پر واقعے کی تفتیش میں مصروف ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر حملہ , FBI کی تحقیقات شروع ، افغان نژاد شخص گرفتار؟
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب افغان نژاد شخص کی فائرنگ سے دو نیشنل گارڈز شدید زخمی۔ FBI نے حملہ آور کے محرکات اور پس منظر کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.