اسلام آباد: حکومت پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان نئے قرض پروگرام کے تحت اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے آئندہ ہفتے امریکہ کے دورے کے دوران حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، آئی ایم ایف نے پاکستان کو اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کا مسودہ فراہم کر دیا ہے، جس میں چند اہم مالیاتی اور سیلابی نقصانات کی ایڈجسٹمنٹس باقی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو صوبوں کے ساتھ کیش سرپلس کے اہداف اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی امدادی ایڈجسٹمنٹس پر اتفاق رائے حاصل کرنا ہوگا، جس کے بعد اسٹاف لیول ایگریمنٹ پر دستخط ممکن ہوں گے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور سبسڈی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ معاہدہ پائیدار ہو۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ جنوری 2026 سے محصولات کے نظام میں نئی اصلاحات متعارف کرائے گی جبکہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم صرف ترجیحی منصوبوں تک محدود رکھی جائے گی۔
آئی ایم ایف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ 37 ماہ کے EFF پروگرام اور 28 ماہ کے RSF پروگرام کے تحت مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو معاہدے کی منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہوگی، جو زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معیشت کے استحکام میں مددگا
ر ثابت ہوگی۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.