اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ بینک نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال (2025-26) میں ترقی کی شرح صرف 2.6 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ حالیہ شدید سیلاب، زرعی پیداوار میں نقصان اور مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب سمیت کئی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ کپاس، گندم، گنا، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں، جس سے زرعی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ ہدف 3.5 فیصد تک محدود کر دیا گیا۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو اگلے مالی سال 2026-27 میں ترقی کی شرح 3.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اصلاحاتی منصوبہ اور مستقبل کی امید
بینک نے حکومت کے پانچ سالہ اقتصادی اصلاحاتی منصوبے (2025–2030) کو مثبت قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر اس منصوبے پر عمل درآمد جاری رہا تو برآمدات، محصولات میں بہتری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ممکن ہے۔
مہنگائی اور عالمی دباؤ
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ گزشتہ سال مہنگائی ایک ہندسی سطح پر آگئی تھی، لیکن سیلاب کے باعث غذائی اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے سے قیمتوں میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔
عالمی سطح پر بھی برآمدات میں 1.5 فیصد کمی کے خدشات ہیں، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
خواتین کی شمولیت سے ترقی ممکن
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ جنوبی ایشیا میں خواتین کی معاشی شمولیت اب بھی بہت کم ہے۔ صرف پانچ میں سے ایک خاتون مزدور طبقے کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع اور کاروباری سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان کا جی ڈی پی 20 سے 30 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.