اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملک بھر میں ایک بڑے صحت عامہ کے منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت تقریباً 9 ملین (90 لاکھ) اسکول جانے والی لڑکیوں کو HPV ویکسین دی گئی ہے۔ اس ویکسین کا مقصد خواتین میں سروِکل کینسر سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے، جو پاکستان میں بڑھتی ہوئی خواتین کی اموات کی ایک اہم وجہ ہے۔
عالمی اداروں کا تعاون
وزارتِ صحت کے مطابق یہ مہم عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور یونیسف کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔ اس کے تحت 9 تا 14 سال کی لڑکیوں کو اسکولوں میں ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی حفاظتی مہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سروِکل کینسر کا خطرہ
ماہرین صحت کے مطابق HPV (Human Papillomavirus) وہ وائرس ہے جو سروِکل کینسر کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ تاہم ویکسین کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو مستقبل میں اس خطرے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویکسین مستقبل میں ہزاروں زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم بعض حلقوں میں اب بھی افواہیں اور خدشات موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔
دنیا کے 130 سے زائد ممالک پہلے ہی HPV ویکسین کو اپنے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شامل کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں یہ مہم کامیابی کے ساتھ جاری رہی تو آئندہ آنے والی نسلوں میں سروِکل کینسر کے کیسز میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.