لندن (2025): سائنسدانوں نے ایک انقلابی کامیابی حاصل کی ہے جس میں پہلی بار انسانی جلد کے خلیات سے حاصل شدہ مادے کے ذریعے انڈے کو بار آور (fertilise) کیا گیا ہے۔ یہ تجربہ مستقبل میں اُن لوگوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے جو بانجھ پن یا جینیاتی مسائل کی وجہ سے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہ طریقہ کیسے کام کرتا ہے؟
اس تحقیق میں in vitro gametogenesis (IVG) نامی تکنیک استعمال کی گئی۔
ماہرین نے انسانی جلد کی خلیات کا نیوکلِئس (DNA والا حصہ) لے کر ایک ایسے انڈے میں منتقل کیا جس کا اپنا نیوکلیئس نکال دیا گیا تھا۔
عام طور پر اس عمل سے کروموسومز کی تعداد دگنی ہو جاتی ہے، لیکن سائنسدانوں نے ایک نئی تکنیک "mitomeiosis" استعمال کی جو فالتو کروموسومز کو خارج کر دیتی ہے۔
اس کے بعد ایک درست خلیہ تشکیل پایا جو بار آوری کے قابل ہو گیا۔
تحقیق کے نتائج
سائنسدانوں نے تقریباً 82 انڈے نما خلیے (oocytes) کو بار آور کیا۔
ان میں سے 10 فیصد کامیابی کے ساتھ ابتدائی تقسیم (blastocyst stage) تک پہنچے۔
یہ وہی مرحلہ ہے جہاں عام IVF علاج میں انڈے کو رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے
پروفیسر یِنگ چیونگ (Ying Cheong) نے کہا کہ یہ ایک “اہم ثبوت” ہے کہ جلد کے خلیات کا DNA انڈے میں منتقل ہو کر صحیح طور پر کروموسوم تقسیم کے عمل سے گزر سکتا ہے۔
پروفیسر رچرڈ اینڈرسن (Richard Anderson) کا کہنا ہے کہ:
"یہ تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی جلد کے خلیات سے حاصل شدہ جینیاتی مواد کو استعمال کر کے ایک ایسا انڈہ بنایا جا سکتا ہے جو بار آور ہونے کے بعد ابتدائی جنین کی شکل اختیار کر سکے۔"
یہ پیشرفت بانجھ پن کے شکار جوڑوں اور اُن افراد کے لیے ایک بڑی امید ہے جن کے پاس قدرتی طور پر انڈے یا نطفہ موجود نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ تکنیک تولیدی سائنس میں انقلاب لا سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.