واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے پاس ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر جواب دینے کے لیے صرف "تین یا چار دن" ہیں۔ منصوبے میں فوری جنگ بندی، اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا اور ایک عبوری فلسطینی حکومت کی تشکیل شامل ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور متعدد عرب ممالک اس منصوبے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے اس تجویز کو قبول نہ کیا تو "اس کا انجام بہت افسوسناک ہوگا"۔
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمن نے تصدیق کی ہے کہ حماس اس منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے، مگر کئی نکات وضاحت طلب ہیں۔ دوسری جانب فتح نے بھی امریکی کوششوں کا خیر مقدم کیا لیکن فتح کے سینئر رہنما عباس ذکی نے اسے "سرنڈر ڈاکیومنٹ" قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو جنگ ختم کرنے اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ دراصل ایک "الٹی میٹم" ہے جس میں اسرائیل کو کھلی چھوٹ مل سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.