نیویارک (خصوصی رپورٹ):وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا کو ایسے رہنما درکار ہیں جو اشتعال نہیں بلکہ مثبت سوچ اور بروقت فیصلے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالمی برادری کو اس پر توجہ دینا ہوگی۔
پاک بھارت تعلقات پر واضح مؤقف
شہباز شریف نے مئی میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا۔ اس کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان کی سرحدی حدود میں فضائی کارروائی کی جس کے نتیجے میں معصوم شہری شہید ہوئے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ذمہ دارانہ مگر مؤثر جواب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں دیا اور دنیا کو دکھایا کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انڈس واٹر ٹریٹی کا مسئلہ
شہباز شریف نے بھارت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف معاہدے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“یہ صرف ایک قانونی تنازعہ نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے مستقبل اور زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہم اپنے پانی کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔”
مسئلہ کشمیر پر بھرپور بات
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دلائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ خطے کے امن اور ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا خوشحال نہیں ہو سکتا۔
فلسطین اور عالمی انصاف
شہباز شریف نے غزہ کی صورتحال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطینی عوام پر مظالم ایک کھلا انسانی المیہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے کو فوری اور مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔
دہشت گردی اور عالمی امن
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں دی ہیں اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی بیرونی دہشت گرد گروہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان کا موقف
انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہیں حالانکہ اس کا عالمی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کو اجتماعی اقدام اٹھانا ہوگا۔
خارجہ پالیسی کا پیغام
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امن، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اگر جارحیت مسلط کی گئی تو وہ بھرپور جواب دے گا۔
شہباز شریف کے اس خطاب کو پاکستانی مبصرین نے “جارحانہ مگر ذمہ دارانہ” موقف قرار دیا ہے۔ ان کا یہ پیغام واضح تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور تعاون چاہتا ہے، لیکن بھارت کے اقدامات جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.