لاہور (ہیلتھ ڈیسک):ماہرین صحت کے مطابق ایک بالغ انسان کو روزانہ کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا ضروری ہے۔ لیکن مصروف طرزِ زندگی، موبائل فون کے استعمال اور کام کے دباؤ کی وجہ سے زیادہ تر افراد نیند پوری نہیں کرتے، جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نیند پوری نہ ہونے کے 7 بڑے نقصانات:
- یادداشت کمزور ہونا
دماغ کو آرام نہ ملنے کی وجہ سے سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
- دل کے امراض کا خطرہ
نیند کی کمی سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کے خطرات بڑھاتی ہے۔
- مدافعتی نظام کمزور ہونا
کم نیند لینے والے افراد جلد بیمار پڑتے ہیں کیونکہ جسم کی قدرتی دفاعی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
- وزن بڑھنا اور موٹاپا
نیند پوری نہ ہونے سے ہارمونس کا توازن بگڑتا ہے جس سے بھوک زیادہ لگتی ہے اور وزن بڑھتا ہے۔
- شوگر کا خطرہ
نیند کی کمی سے انسولین کی سطح متاثر ہوتی ہے جو ذیابیطس کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
- ذہنی دباؤ اور ڈپریشن
نیند نہ آنے والے افراد میں ڈپریشن اور اینگزائٹی کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔
- کام کرنے کی صلاحیت کم ہونا
تھکن، توجہ میں کمی اور چڑچڑاپن روزمرہ زندگی اور کام پر برا اثر ڈالتے ہیں۔
ماہرین کی تجویز
- رات کو سونے سے پہلے موبائل/ٹی وی کا استعمال کم کریں
- سونے کا وقت مقرر کریں
- کیفین (چائے/کافی) کا استعمال رات کے وقت نہ کریں
- پرسکون ماحول میں سوئیں



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.