اسلام آباد (ہیلتھ ڈیسک):دنیا بھر میں لاکھوں افراد بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک نمک کا زیادہ استعمال ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق کھانے میں نمک کی زیادتی نہ صرف ہائی بلڈ پریشر بلکہ دل کے دورے، گردوں کے امراض اور ہڈیوں کی کمزوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
نمک زیادہ کھانے سے کیا ہوتا ہے؟
1. ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure):
زیادہ نمک کھانے سے خون میں سوڈیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے رگوں پر دباؤ پڑتا ہے اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔
2. دل کی بیماری (Heart Disease):
بلڈ پریشر بڑھنے کے ساتھ دل پر بھی دباؤ بڑھتا ہے، جس سے دل کا دورہ یا فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
3. گردوں کے امراض (Kidney Problems):
گردے خون سے نمک کو فلٹر کرنے میں زیادہ محنت کرتے ہیں، جس سے گردے کمزور ہو جاتے ہیں اور وقت سے پہلے فیل ہو سکتے ہیں۔
4. ہڈیوں اور دماغ پر اثرات:
زیادہ نمک کھانے سے کیلشیم ضائع ہوتا ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں، جبکہ دماغی صحت پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہدایت
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایک بالغ انسان کو روزانہ 5 گرام نمک (ایک چائے کا چمچ) سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں اوسطاً لوگ اس مقدار سے دوگنا نمک کھاتے ہیں۔
نمک کم کرنے کے آسان طریقے
- کھانے میں نمک کم ڈالیں اور آہستہ آہستہ عادت ڈالیں
- فاسٹ فوڈ، چپس اور پیکڈ فوڈز سے پرہیز کریں
- ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں، ہربز اور مصالحے استعمال کریں
- پیکٹ فوڈ خریدتے وقت Nutrition Label لازمی پڑھیں
صحت مند زندگی کے لیے نمک کو کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپ دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر اور گردے کے امراض سے بچنا چاہتے ہیں تو آج ہی سے اپنے کھانے میں نمک کی مقدار کم کریں



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.