اسلام آباد/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے اس منصوبے کی مکمل حمایت کی۔
غزہ جنگ اور جانی نقصان
رپورٹس کے مطابق غزہ پر اسرائیلی افواج کے حملوں کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں میں 65,549 افراد شہید اور 167,518 زخمی ہو چکے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- غزہ کی عسکری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ
- حماس کی طاقت کو محدود اور غیر مؤثر کرنا
- عالمی اور علاقائی نگرانی میں ایک عبوری حکومت قائم کرنا
- اگر حماس اس منصوبے پر عمل کرے تو جنگ کا فوری خاتمہ
قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا
ٹرمپ نے اسے مشرق وسطیٰ میں "ابدیت کا امن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو پورے خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو کا ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے کو "اہم سنگ میل" قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کا مقصد جنگ کو ختم کرنا، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں ایک پرامن نظام قائم کرنا ہے جو نہ حماس اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہو۔
پاکستان کا موقف
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا حامی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی حمایت کو بھی ٹرمپ نے سراہا اور کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.