وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر عارف علوی کو خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخوں سے متعلق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو صدر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے صدر عارف علوی کو غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ نواز پارٹی کے اجلاس میں، انہوں نے کہا کہ عارف علوی کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پنجاب اور کے پی میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے متعلق خط ایک غیر آئینی عمل ہے۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں، حکمران اتحاد کے نمائندوں اور وفاقی حکومت کی قانونی ٹیم نے شرکت کی۔ حکومتی قانونی ٹیم نے اجلاس کے شرکاء کو پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بارے میں آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ مستقبل میں ایسی حرکتوں سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کا احترام کرتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک خودمختار ادارہ ہے اور پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا اس پر حکومت عمل درآمد کرے گی۔
وزیراعظم نے صدر علوی کو ان کے غیر آئینی اقدام کے بارے میں خط لکھنے پر حکمران اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی نام نہاد جیل بھرو تحریک بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور عوام نےانتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لوگ پی ٹی آئی کے یو ٹرن کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو پنجاب اور کے پی میں انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لیے مدعو کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر کی مشاورت کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد صدر علوی نے یکطرفہ طور پر پنجاب اور کے پی میں 9 اپریل کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔
صدر عارف علوی کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزراء نے کہا تھا کہ صدر کے حکم کی کوئی اہمیت نہیں۔
دریں اثناء اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز ن لیگ کے خلاف مقدمات سے خود کو الگ کر لیں کیونکہ پارٹی کو ان سے انصاف کی امید نہیں تھی۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری نے الگ الگ ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اگرچہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والا سرکاری اعلامیہ صرف یہ کہنے تک محدود رہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت آج (جمعہ) کو قومی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرے گی۔
اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی آئی بی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت سروسز چیفس شامل ہوں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اجلاس سہ پہر تین بجے وزیراعظم ہاؤس میں شروع ہوگا۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان، وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ذرائع نے نشاندہی کی کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے حالیہ دورہ افغان دارالحکومت کے تناظر میں یہ ملاقات نمایاں اہمیت کی حامل تھی جہاں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم بھی ساتھ تھے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.