اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں مدعو کیا جس کا مقصد مشکل معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان مشکلات سے نکلنے کے لیے حکمت عملی بنائیں۔ یہ کانفرنس 7 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی وزیر ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے اعلیٰ رہنماؤں بشمول سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک سے رابطے شروع کر دیے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ وہ آئندہ کے اجلاس میں شرکت کریں۔
اس دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ حکومتی اے پی سی میں شرکت کے حوالے سے پارٹی کے اندر مشاورت کر ر ہی ہے۔
یہ دعوت ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ پی ڈی ایم کی زیر قیادت حکومت اور پی ٹی آئی تقریباً تمام قومی مسائل پر ہمیشہ آمنے سامنے رہے ہیں۔
اے پی سی کے اگلے روز (8 فروری)، وزیر اعظم پارلیمنٹ میں ملک کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے لائحہ عمل کے بارے میں اعتماد میں لیں گے۔
اعلیٰ ذرائع نے جمعرات کی شام بتایا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے پارلیمنٹ کے گزشتہ مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، اس لیے حکمران اتحاد پی ٹی آئی سے اگلے ہفتے بعد ہونے والے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرنے کے لیے رجوع کر رہے ہے۔
مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترمیم پر غور کیا جائے گا اور اس سے وفاقی دارالحکومت کے میئر اور ڈپٹی میئر کے براہ راست انتخاب کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ، اسلام آباد ملک کا پہلا شہر بن جائے گا جس میں دنیا کے متعدد میٹروپولیٹن شہروں کی طرح شہر کے لوگوں کے ذریعہ براہ راست منتخب ہونے والے دو باوقار شہری دفاتر ہوں گے۔ یہ بل گزشتہ سال دسمبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے الگ الگ منظور کیا گیا تھا تاہم صدر نے اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا اور اسے واپس پارلیمنٹ میں بھیج دیا گیا تھا۔ ایکٹ میں ترمیم سے وفاقی دارالحکومت میں مقامی کونسلوں کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہو سکے گا۔
علاوہ ازیں جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ گورنر ہاؤس پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ 15 ماہ بعد ہونے والے اجلاس میں کور کمانڈر پشاور، آئی جی کے پی اور دیگر اداروں کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔ صوبائی دارالحکومت میں سانحہ کے بعد امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ٹھکانوں کی تازہ ترین فہرست بھی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
پشاور دھماکے کے بعد سے حکمران اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے اور دہشت گردی میں حالیہ اضافے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا جا رہا ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.