کراچی: اتوار کی رات کراچی پولیس آفس پر جمعہ کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کے دوران انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے رات گئے چھاپوں کے دوران تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے سہراب گوٹھ کے الآصف اسکوائر کے علاقے میں چھاپے مارے جب جیو فینسنگ ڈیٹا سے دہشت گردی کے حملے کے کئی سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی ۔
جمعہ کی شام تین دہشت گرد خودکش جیکٹس کے ساتھ کے پی او کی عمارت میں داخل ہوئےتھے۔ اس کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن میں پولیس کمانڈوز اور رینجرز نے عمارت کو کلیئر کرایا تھا۔
چار گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اعصاب شکن آپریشن میں تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے ،اس کے علاوہ دو پولیس اہلکاروں اور سندھ رینجرز کے ایک سب انسپکٹر سمیت چار افراد نے جام شہادت نوش کیا۔
اس دہشت گردانہ حملے میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں سمیت کم از کم 17 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، اس سے قبل پشاور سول لائنز کی ایک مسجد میں ایک مہلک خودکش حملے کے بعد کم از کم 85 افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔
آپریشن میں ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر، ڈی آئی جی ساؤتھ عفران بلوچ، ڈی آئی جی ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) ناصر آفتاب، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) اور سندھ رینجرز نے حصہ لیا۔ پاک فوج نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی۔
تحریک طالبان کے خلاف سی ٹی ڈی تھانے میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
تازہ ترین گرفتاریاں انٹیلی جنس رپورٹ پر کی گئیں، تینوں ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
"حراست میں لیے گئے افراد سے کچھ موبائل سمز برآمد ہوئی ہیں،" ذرائع نے بتایا کہ جیوفینسنگ میں 100 سے زائد موبائل نمبرز کو مشکوک قرار دیا گیا تھا۔
"ان 100 نمبروں میں سے، کم از کم 10-12 نمبر تب سے بند ہیں۔"
دریں اثنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے KPO حملے کی CCTV کی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔
فوٹیج سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، حملہ آور شام 7 بج کر 15 منٹ پر مسجد اور کے پی او کے درمیان مین گیٹ پر موجود کانسٹیبل پر فائرنگ کرتے ہوئے KPO میں داخل ہوئے اور اس کے فوراً بعد ہی دستی بم پھینکے۔
پہلی منزل پر پہنچنے سے پہلے، انہوں نے امجد مسیح، ایک چوکیدار کو گولی مار دی، اور پھر دستی بم سے حملہ کیا۔
اس دوران پولیس کمانڈوز پوزیشن میں آگئے اور جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا زیادہ تر واقعہ پہلی اور دوسری منزل پر ہوا۔
پولیس اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے وائرلیس پولیس کنٹرول سے حملے کی اطلاع ملنے کے بعد فوری طور پر کے پی او پہنچ گئے۔
فورسز نے محتاط حکمت عملی اختیار کی کیونکہ دفتری عملہ عمارت کے اندر تھا ۔
جب تک سیکورٹی دستے عمارت میں داخل ہوئے، عسکریت پسند دوسری منزل تک پہنچ چکے تھے۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کو دہشت گردوں کے پاس موجود خودکش جیکٹس اور دیگر دھماکہ خیز مواد کو محفوظ کرکے عمارت کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔
جبکہ عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ تین دہشت گرد پولیس لائنز کے فیملی کوارٹرز کے باہر ایک کار نمبر ALF-043 سے اترے اور خاردار تاریں کاٹ کر کے پی او کی دیوار پر چڑھ گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک موٹر سائیکل پر دو دیگر افراد بھی تھے جنہوں نے حملہ آوروں کو عمارت میں داخل ہونے سے پہلے سلام کیا اور وہاں سے فرار ہو گئے۔
دریں اثنا، سندھ پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے اتوار کو اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں سندھ کے تمام رینجز کے سینئر ترین افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی اور صوبے بھر میں ریڈ الرٹ کا حکم دیا۔
آئی جی غلام نبی میمن نے سندھ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ چینی باشندوں اور غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے فول پروف حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حفاظتی انتظامات میں کوتاہی پر نگراں افسران کو خبردار کیا اور کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے ذمہ دار وہ ہوں گے۔
مزید برآں، انہوں نے سیکیورٹی حکام کو تمام اہم تنصیبات، پولیس لائنز، سرکاری دفاتر کے تربیتی مراکز، اداروں اور دیگر مقامات پر سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی۔
سندھ پولیس کے سربراہ نے مزید کہا کہ کے پی او حملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں انعامی کمیٹی بھی بنائی ہے جس کے ارکان میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اور اے آئی جیز ویلفیئر شامل ہیں۔
وہ بہادری کے ساتھ حملے کا مقابلہ کرنے والے افسروں اور جوانوں کے لیے انعامات اور اسناد کی فہرست تیار کریں گے۔ غلام نبی میمن نے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا خیال رکھنے اور تمام زخمیوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات دیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.