اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا حصہ ہے،۔ اس منصوبے نے پچھلے 10 سالوں میں دنیا بھر میں بہت سے ممالک کی ترقی کو پہلے ہی فائدہ پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار، وسطی ایشیا میں شی جن پنگ کی اہم سفارتی سرگرمیاں نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے نیا اہم دیرینہ اثر و رسوخ بھی لائے گی۔
چائنا سنٹر فار ایس سی او اسٹڈیز کے سیکرٹری جنرل ڈینگ ہاؤ نے جمعرات کو چینی میڈیا کو بتایا کہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک دوست ہمسایہ اور قریبی شراکت دار ہیں اور خطے کی صورتحال چین کے مغربی علاقے کے استحکام اور ترقی کو براہ راست متاثر کرے گی۔یہ دورہ چین کی توانائی کی ضروریات اور بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے لیے بھی اہم ہے۔ اس لیے 2020 کے بعد چین کے سربراہ مملکت کے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے اس خطے کا انتخاب کرنا ثابت کرتا ہے کہ چین علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
اس سال کے شروع میں روس یوکرین تنازعہ اور قازقستان کے سیاسی بحران کے بعد سے، علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں، اور حالیہ برسوں میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازعات نے بھی خطے کے لیے خطرات اور خدشات میں اضافہ کیا ہے،
چینی صدر اس خطے میں استحکام پر بھی کام کریں گے۔
چینی صدر کا قازقستان اور ازبکستان دونوں میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی کی گئی۔ بدھ کو قازقستان میں شی جن پنگ کو آرڈر آف دی گولڈن ایگل، یا "الطین قیران" دیا گیا ، جسے قازق صدر توکایف نے نور سلطان کے صدارتی محل میں دیا ۔ دی آرڈر آف دی گولڈن ایگل قازقستان کی قومی ترقی اور دوستانہ بیرونی تعلقات میں نمایاں شراکت کے اعتراف میں قازقستان کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے۔
توکایف نے یہ اعزاز دینے سے پہلے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ شی جن پنگ کا دورہ قازقستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
توکایف نے کہا کہ چینی صدر نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون اور بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر سمیت عظیم اقدامات کو آگے بڑھایا ہے، اور ایک نئی قسم کے بین الاقوامی تعلقات کی تعمیر میں شاندار کردار ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ہم عالمی ترقیاتی اقدام اور عالمی ترقی اور آج کی دنیا کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کے حل کے لیے یہ اعزاز شی جن پنگ کو قازقستان کی طرف سے پیش کر رہے ہیں۔
جمعرات کو، شی جن پنگ کو ازبک صدر میرزی یوئیف کی جانب سے دوستی کا اعزاز - فرینڈشپ آرڈر - ملا۔
ازبکستان میں میرزی یوئیف نے بدھ کی شام کو ہوائی اڈے پر شی جن پنگ کا شاندار استقبال کیاگیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.