منگل کو بھارت سری لنکا کے خلاف ایک اہم میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہار گیا۔ اس ہار کے بعد اب بھارت ایشیا کپ کے فائنل میں لگ بھگ نہیں پہنچ سکتا۔
بھارتی کپتان روہت شرما کا کہنا ہے کہ جیت اور ہار ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، ٹیم کو قبول کر کے آگے بڑھنا پڑے گاکہ۔ "یہ چیزیں ہوتی ہیں،"ایسا انہوں نے میچ کے بعد کی گئی پریس کانفرنس میں کہا۔
جب ان سے پوچھا گیاکہ کیا ان کی ٹیم نے سری لنکا کو کم سمجھا تھا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
میں پسندیدہ اور انڈر ڈاگس پر یقین نہیں رکھتا۔ یہاں کی تمام ٹیمیں معیاری ہیں، اور آپ کو کھیل جیتنے کے لیے اپنی بہترین کرکٹ کھیلنی ہوگی۔ ہم تو کسی بھی اپوزیشن کو ہلکے سے نہیں لیتے۔ ہم سری لنکا کے کھیل کے انداز سے حیران نہیں ہوئے۔ ہم جانتے تھے کہ سری لنکن ٹیم کا ایک معیار ہے۔ ان کے آخری دو کھیل آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ ایک معیاری ٹیم ہیں۔
اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کیا غلط ہوا جس کی وجہسے ٹیم انڈیا کو ہار کا سامنا کرناپڑا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا،
وکٹیں گرنے کی وجہ سے ہم پہلے چھ اوورز میں مطلوبہ رنز نہیں بنا سکے۔ اس کے بعد ہمیں کچھ رفتار ملی لیکن اننگز کو ٹھیک طرح سے ختم نہ کر سکے۔ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ ہمارے 10-12 رنز کم تھے، لیکن 175 دفاع کے لیے ایک معقول سکور تھا۔ لیکن ہم نے اس گراؤنڈ میں دیکھا ہے کہ اگر آپ درمیانی اوورز میں وکٹیں لیتے ہیں تو ایک اچھی شروعات بھی ہوتی ہے، پھر بھی جیتنے کا ایک موقع ہے۔ ہمارے اسپنرز ہمیں واپس لائے، لیکن ہم میچ کے آخری اوورز میں ٹھیک سے مینج نہیں کر پائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ کون سا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ
اہم موڑ وہ آغاز تھا جو سری لنکا نے حاصل کیا۔ جب وہ بغیر کسی نقصان کے 90 کے سکور پر تھے، تو آپ 10 اوورز میں پہلے ہی بیک فٹ پر ہوتے ہیں۔ لہذا وہ اگلے 10 اوورز میں 10 وکٹوں کے ساتھ 70-75 رنز حاصل کرنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ انہوں نے ایک شاندار آغاز کیا، اور اس صورتحال سے واپس آنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ ہم نے وکٹیں حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن بدقسمتی سے یہ ہمارا دن نہیں تھا۔
اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کیا کوئی بولر کم تھا؟
تو انہوں نے کہا
اگر ہمیں ابتدائی طور پر وکٹیں نہیں ملتی ہیں تو کچھ دباؤ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس زیادہ مارجن نہیں تھا۔ ہمارے پاس صرف 170 رنز تھے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ دبئی میں دوسری بیٹنگ بہتر ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہمیں پاور پلے میں وکٹیں نہیں ملیں گی تو مشکلات ہوں گی۔ میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی بولر کم ہے کیونکہ ہمیں تمام کھلاڑیوں پر اعتماد ہے۔ بعض اوقات چیزیں آپ کی سوچ کے مطابق نہیں چلتی ۔
اس کے علاوہ ان سے پوچھا گیا کیا یہ ہار مایوس کن ہے ٹیم کیلئے؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا
ایسی ہار ٹیم کے لیے نقصان دہ ہے، پر اس سے ٹیم کے حوصلے متاثر نہیں ہوتے۔ ہم نے چھ ماہ سے زیادہ کام کیا ہے۔ ہار یا جیت ڈریسنگ روم کا ماحول نہیں بدلتی۔ ہم اسے اسی طرح رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس پر کام کیا ہے۔ تمام لڑکے اسے اس طرح رکھنے پر خوش ہیں۔ ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہوگا تو میدان میں اس کا عکس نظر آئے گا۔ ہم جیت، ناکامی، یا اچھی یا بری کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا فیصلہ نہیں کرتے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.