سعد رفیق اور ان کے بھائی کو دسمبر 2018 میں نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد رواں برس 17 مارچ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔
ضمانت دیتے وقت بھی جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ یا تو نیب ٹھیک نہیں ہے یا اہلیت کا کمی ہے دونوں ہی صورتحال میں معاملہ بہت خطرناک ہے۔ نیب کے پاس ضمانت خارج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔
تاہم اب پیر کو تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
نیب سیاسی تقسیم کے ایک طرف کے افراد کے خلاف مالی الزامات ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کر رہی۔
جسٹس مقبول باقر نے 87 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان طویل جدوجہد کے بعد آزاد جمہوری ریاست کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔ قانون ہر شہری کی عزت و وقار کو تحفظ فراہم کرتا ہے،لوگوں کو ان کے حقوق سے تسلسل کے ساتھ محروم رکھا جاتا ہے ملک میں احتساب کے لئے بننے والے مختلف قوانین کا استعمال سیاسی مخالفین کو دبانے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے کیا جاتا رہا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اصول ،رواداری، اور جمہوری اصولوں کے احترام کو نظر انداز کیا گیا،کرپشن جس کی بنا پر اقرباپروری،نا اہلی،عدم برداشت ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں۔ ہمارا معاشرہ کرپشن،اقربا پروری،نا اہلی،عدم برداشت اور دیگر مسائل میں ڈوب چکا ہے۔
خواجہ برادران کیس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں زیر التواء دیوانی مقدمے کو نیب کے ریفرنس میں شامل کیا گیا۔ اس معاملے میں ملک میں اختیارات کی تقسیم کے تصور کو توہین کے ساتھ روندا گیا۔ یہ مقدمہ بنیادی حقوق کی پامالی،آزادی سے محرومی،اور انسانی عظمت کی توہین کی کلاسک مثال ہے۔ موجودہ مقدمہ نیب کی قانون کی خلاف ورزی ظاہر کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کرپشن کا خاتمہ ایک منفرد کام ہے۔کرپشن کے خاتمہ کے اقدامات قانون کے مینڈیٹ کے مطابق ہونے چاہیے۔ بظاہرنہیں لگتا خواجہ بردران نے ایسا جرم کیا جس کا نیب ٹرائل ہو،نیب خواجہ بردران کا پیراگون کمپنی کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں جوڑ سکا۔ نیب کا خواجہ بردران کو حراست میں رکھنا نیب کے قانون کے مطابق درست نہیں ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ چیرمین نیب نے کن شواہد کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا وہ سامنے نہیں۔ کوئی ادارہ جتنا بھی طاقتور ہو آئین میں دیے گئے حقوق کو ختم نہیں کر سکتا ۔آئین تو چاہتا ہے شہریوں کے ان کے حقوق سے محروم نہ رکھا جائے۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ابزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرنے کا بھی کہا ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت اور کٹھ جوڑ کے منہ پر طمانچہ ہے ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہے اور خواجہ برادران کے ثابت قدم رہنے پر ان
کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے جسٹس باقر کے فیصلے کی عبارت ٹوئٹر پر نقل کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سیاسی جوڑ توڑ میں نیب کے کردار کو واضح کردیا ہے۔ ایسے ہی فیصلوں سے رفتہ رفتہ عدلیہ کی آزادی اور وقار
قائم ہوتا ہے۔





Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.