2025 میں پاکستان میں خواتین رپورٹرز کی نمائندگی خطرناک حد تک کم ہو کر صرف چار فی صد رہ گئی، جو 2020 میں 16 فی صد تھی۔ یہ انکشاف گلوبل میڈیا مانیٹرنگ پراجیکٹ کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جسے اُکس ریسرچ سینٹر نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں شیئر کیا۔ رپورٹ کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ 94 ممالک میں بھی میڈیا میں صنفی برابری کی رفتار تقریباً رک گئی ہے، جو عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے۔
گلوبل میڈیا مانیٹرنگ پراجیکٹ ہر پانچ سال بعد ایک دن کی عالمی مانیٹرنگ کے ذریعے یہ جائزہ لیتا ہے کہ خبروں میں خواتین اور مردوں کی نمائندگی کس حد تک متوازن ہے۔ پاکستان میں یہ مسلسل چوتھا موقع ہے جب اُکس ریسرچ سینٹر نے اس تحقیق کے لیے ڈیٹا فراہم کیا۔ 2025 میں مانیٹرنگ 6 مئی کو ہوئی، جس روز بھارت پاکستان کشیدگی نے خبریں مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے رکھی تھیں اور خواتین سے متعلق رپورٹنگ تقریباً غائب رہی۔مانیٹرنگ کے مطابق 6 مئی کو ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل نیوز میں ایک بھی خاتون رپورٹر موجود نہیں تھی، جبکہ خبریں سرحدی فائرنگ، سیاسی بیانات اور عسکری تجزیات سے بھری رہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ اگرچہ اس دن کی خبروں پر تنازع کا اثر تھا، مگر گزشتہ پانچ سال کے مجموعی رجحانات بھی ثابت کرتے ہیں کہ نیوز رومز میں خواتین کی آواز اب بھی حاشیے پر ہے۔
صنفی تشدد کے حوالے سے رپورٹنگ کی صورتحال بھی انتہائی مایوس کن رہی اور مانیٹرنگ کے دن صرف ایک خبر رپورٹ ہوئی، جس میں خاتون کو بطور متاثرہ پیش کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر خواتین بطور نیوز سبجیکٹ صرف 13 فی صد رہ گئیں، جو 2020 میں 18 فی صد تھیں، اور حیران کن طور پر خواتین پر مبنی تمام خبریں مرد صحافیوں نے تیار کیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ واحد شعبہ جہاں خواتین کی نمائندگی میں کچھ بہتری آئی، وہ سماجی و قانونی خبریں تھیں، جن میں خواتین کی موجودگی 2020 کے 14 فی صد سے بڑھ کر 20 فی صد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم دیگر تمام شعبوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو میڈیا کی ترجیحات میں مسلسل صنفی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی جائزے کے مطابق 94 ممالک میں روایتی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی 26 فی صد جبکہ ڈیجیٹل میڈیا میں 29 فی صد رہی، جو گزشتہ دہائی میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی ظاہر کرتی ہے۔ کھیلوں کی خبروں میں خواتین کی موجودگی صرف 15 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ خواتین اب بھی مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ "متاثرہ" کے طور پر دکھائی دیتی ہیں اور صنفی تشدد سے متعلق خبریں دنیا بھر میں محض دو فی صد بنتی ہیں، جس کے باعث مجموعی بیانیے میں بہتری کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کا ڈیٹا واضح کرتا ہے کہ میڈیا میں صنفی برابری کے حوالے سے تبدیلی کی رفتار سست پڑ چکی ہے اور موجودہ اقدامات خواتین کی مؤثر نمائندگی کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.