لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی یا کسی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی حامی نہیں ہیں، لیکن تحریک انصاف کے حالیہ طرزِ عمل نے ریاستی اداروں کو ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے دو حصوں پر مشتمل سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ بطور سیاسی کارکن وہ پابندیوں اور غیر معمولی انتظامی اقدامات پر یقین نہیں رکھتیں، تاہم حالات اس طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہے جہاں پولیس فورس کمزورہے ، عملہ کم اور کرائمز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) تاحال قائم نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق صوبائی فورس کے پاس جدید آلات کی کمی بھی سنگین مسئلہ ہے، ایسے میں پی ٹی آئی کی اشتعال انگیز حکمت عملیاں ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے بیانیے نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو حکومت کے پاس "کوئی آپشن نہیں بچے گا"۔ وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا بیانیہ MQM کے بانی الطاف حسین سے بھی زیادہ سخت ہو چکا ہے اور بعض معاملات میں "وہ انہی کی راہ پر چل رہے ہیں"۔ پریس کانفرنس کے ایک سوال کے جواب پر انہوں نے یہاں تک کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں پی ٹی آئی بانی کو بھی "وہی انجام" نہ دیکھنا پڑے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ایک ادارے کے سربراہ کے خلاف مہم چلا رہی ہے، انہوں نے تنبیہ کی کہ اداروں کے سربراہان کے خلاف مہم جوئی کا سلسلہ زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو گیا تھا، مگر اب ملک دوبارہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو پا رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان "عمران خان کی طرز کی سیاست" کے ساتھ ملک اب نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق ڈھائی سال صبر کیا گیا لیکن اب صورتحال حد سے بڑھ گئی ہے اور تحریک انصاف ملک کے لیے "خطرہ" بنتی جا رہی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فوجی قیادت پر پی ٹی آئی کی تنقید کے جواب میں سیاسی حلقوں کی جانب سے مسلسل ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ یہ سلسلہ 5 دسمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی سخت پریس کانفرنس کے بعد سے مزید شدت اختیار کر گیا، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی بانی پر "اینٹی آرمی بیانیہ" پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ یہ پریس کانفرنس عمران خان کے حالیہ جیل پیغام کے بعد سامنے آئی تھی جو ان کی بہن عظمٰی خان کے ذریعے منظر عام پر آیا۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.