ٹائن (Tine), چاڈ :- سوڈان میں جاری شدید لڑائی اور آر ایس ایف (RSF) کے حملوں سے جان بچا کر نکلنے والے ہزاروں پناہ گزین چاڈ کی سرحدی بستی ٹائن پہنچ رہے ہیں، مگر یہاں انہیں خوراک، پانی اور طبی سہولتوں جیسی بنیادی امداد نہ ہونے کے برابر مل رہی ہے۔سرحدی علاقے میں لگائے گئے عارضی کیمپوں میں مسلسل پناہ گزینوں کی آمد جاری ہے۔ زیادہ تر افراد خواتین، بچے اور بزرگ ہیں جو کئی روز کے پیدل سفر اور بھوک پیاس کے بعد سرحد تک پہنچتے ہیں، لیکن یہاں امدادی سرگرمیوں کی رفتار انتہائی سست ہے۔
پناہ گزینوں کے مطابق، بین الاقوامی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد شدید قلت کا شکار ہے۔ اکثر اہلِ خانہ جو کچھ بچا کھچا راشن لے کر آئے تھے، وہ بھی چند دن میں ختم ہو جاتا ہے، جب کہ طبی مراکز میں عملہ اور ادویات کی کمی کے باعث بیمار اور زخمی افراد کو بروقت علاج نہیں مل پا رہا۔
کیمپ میں موجود کچھ افراد اپنے طور پر کھانا تیار کر کے بچوں اور کمزور مہاجرین میں تقسیم کر رہے ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث ان کا کام متاثر ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے نئے آنے والے مہاجرین تک امداد پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے UNHCR نے صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری امداد نہ پہنچائی گئی تو سرحدی علاقوں میں شدید انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق، درکار بجٹ کا صرف ایک چھوٹا ساحصہ ہی ملا ہے جس سے امدادی سرگرمیوں میں مسلسل رکاوٹ آ رہی ہے۔
پناہ گزینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اس وقت ہوا جب سوڈان کے شہر الفاشر میں تازہ لڑائی اور حملوں کے باعث ہزاروں لوگ گھروں سے بے دخل ہو کر سرحد کی جانب بھاگے۔ متعدد افراد نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تشدد کے واقعات کی بھی اطلاع دی ہے۔
چاڈ کی حکومت نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی۔
سوڈان سے فرار ہونے والے ہزاروں افراد چاڈ کی سرحد پر امداد کی شدید کمی کا شکار
سوڈان میں بڑھتی لڑائی سے جان بچا کر چاد پہنچنے والے ہزاروں مہاجرین خوراک، پانی اور طبی سہولتوں کی قلت کا شکار ہیں۔ UNHCR نے فنڈز کی کمی اور سرحدی کیمپ



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.