آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس میں تقریباً 1 ارب ڈالر 37 ماہ کی Extended Fund Facility کے تحت اور تقریباً 200 ملین ڈالر Resilience and Sustainability Facility کے تحت جاری کیے جائیں گے، جو موسمیاتی اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مختص ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی مالی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ملک نے سخت عالمی مالی دباؤ اور حالیہ سیلابوں کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا ہے، جس کی بدولت یہ قسط ممکن ہوئی۔ IMF نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری پر عمل درآمد کو تیز کرے، توانائی اور عوامی خدمات کے شعبے میں اصلاحات لائے اور موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے منصوبے فعال کرے۔
IMF نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر دی؟
IMF نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر دی ہے، جس میں مالی اور موسمیاتی اصلاحات کے لیے فنڈز شامل ہیں۔ یہ قسط اقتصادی استحکام اور زرمباد
IMF کے وفدنے اس بات پر بھی زور دیا کہ "توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور اس کی عملداری کی مسابقت اہم ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت پاور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے "گردشی قرضوں کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد کی"، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "بعد میں ہونے والی کوششوں کو بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے اخراجات کو پائیدار طریقے سے کم کرنے اور بجلی اور گیس کے شعبے میں خامیوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے"۔
آئی ایم ایف کی فراہم کردہ اس رقم کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو سکتے ہیں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں آسانی آئے گی، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے اور توانائی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بہتر طور پر نافذ ہو سکتے ہیں، تاہم IMF نے واضح کیا ہے کہ اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کے بغیر یہ قسط صرف وقتی ریلیف ثابت ہوگی۔ یہ فیصلہ نہ صرف مالی امداد ہے بلکہ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور اصلاحاتی اقدامات کے لیے بین الاقوامی اعتماد کی علامت بھی ہے، اور اس پر عمل درآمد سے ملک طویل مدتی اقتصادی اور ماحولیاتی استحکام کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.