اسلام آباد: پاکستان کی فوجی قیادت میں آج تاریخی تبدیلی ہوئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی سفارش پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو باضابطہ طور پر ملک کا پہلا Chief of Defence Forces (CDF) مقرر کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل اور ایئر چیف دونوں کو ان کی تقرریوں اور مستقبل میں خدمات دینے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ نیا عہدہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آیا، جس نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے پاکستان کی مسلح افواج کے کمان اور کنٹرول کا ڈھانچہ تبدیل کیا۔ اس ترمیم کے تحت تقریباً پانچ دہائیوں سے قائم Chairman Joint Chiefs of Staff Committee (CJCSC) کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بدلے میں Chief of Defence Forces کا نیا عہدہ قائم کیا گیا، جس میں COAS بذات خود CDF مقرر ہوں گے، یعنی فوج، بحریہ اور فضائیہ کی قیادت ایک ہی عہدے کے تحت متحد ہو گئی ہے۔
آئینی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ، اور نیوی ایکٹ میں ترامیم کیں، تاکہ قانونی اور آئینی ڈھانچہ ہم آہنگ ہو جائے۔ اب آرمی ایکٹ میں "Chief of Army Staff" کی اصطلاح کی جگہ "Chief of Defence Forces/Chief of Army Staff (CDF-cum-COAS)" استعمال ہوگی، اور پہلے CDF کی مدت ملازمت نوٹیفکیشن کی تاریخ سے پانچ سال مقرر ہوگی، جس کے بعد مزید توسیع ممکن ہوگی۔
نئے ڈھانچے میں Commander National Strategic Command (CNSC) کا عہدہ بھی قائم کیا گیا ہے جو اسٹریٹجک قوتوں کی کوآرڈینیشن سنبھالے گا، اور اس عہدے پر تقرری CDF کی سفارش پر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں CDF تمام آپریشنل، انتظامی اور اسٹریٹجک امور میں سب سے اعلیٰ عہدہ دار بن جائیں گے۔
اس ترمیم کے تحت پانچ ستارہ رینک کے افسران جیسے Field Marshal، Marshal of the Air Force، یا Admiral of the Fleet کو عمر بھر کے حقوق، مراعات اور قانونی تحفظات فراہم کیے گئے ہیں، جو پہلی بار آئینی تاریخ میں قانون میں درج کیے گئے ہیں۔اب عاصم منیر مکمل طور پر تینوں افواج بری بحریہ اور فضائیہ کی قیادت کریں گے، اور سابقہ علیحدہ کوآرڈینیٹنگ عہدہ CJCSC ختم ہو گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت ان کی مدت ملازمت پانچ سال ہوگی، جس کے بعد قانونی طور پر مزید توسیع ممکن ہے۔
فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت کو بڑھا کر مارچ 2028 تک کر دیا گیا ہے، تاکہ منتقلی کے دوران استحکام برقرار رہے۔یہ اصلاحات سول اور فوجی تعلقات، نگرانی کے نظام، اور مسلح افواج کے آئینی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈالیں گی، اور پاکستان کی فوجی قیادت کا ڈھانچہ مرکزی اور متحد ہو گیا ہے۔نئے ڈھانچے میں Commander National Strategic Command (CNSC) کا عہدہ بھی بنایا گیا ہے جو جوہری اور اسٹریٹجک طاقتوں کی نگرانی کرے گا، اور اس کی تقرری CDF کی سفارش پر ہوگی۔
فوجی قیادت کا ڈھانچہ اب زیادہ مرکزی اور متحد ہو گیا ہے، اور آئینی تبدیلیوں سے سول اور فوجی تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دفاعی حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں مزید شفافیت اور مربوط کنٹرول متوقع ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.