کراچی (تازہ خبر) — پاکستان جنوبی ایشیا میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لحاظ سے سرِ فہرست ملک بن گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (ICMA) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال اوسطاً 34 ہزار سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔
خطے کے دیگر ممالک میں سخت شرائط
رپورٹ کے مطابق بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، کیینیا اور نائیجیریا جیسے ممالک میں استعمال شدہ گاڑیوں پر سخت پابندیاں ہیں۔
بھارت میں تین سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد ممنوع ہے، اور 125 فیصد تک امپورٹ ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش صرف چار سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیتا ہے، وہ بھی مخصوص شرائط کے ساتھ۔
سری لنکا نے 2025 میں پابندی اٹھائی مگر صرف رجسٹرڈ درآمد کنندگان کو اجازت دی ہے۔
نائیجیریا میں 10 سال سے پرانی گاڑیوں کی درآمد پر بھاری جرمانہ یا مکمل پابندی ہے۔
پاکستان کی نئی پالیسی
وفاقی حکومت نے ستمبر 2025 میں پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔
پہلے سال 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
ہر سال ڈیوٹی میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔
2030 تک یہ ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے صارفین کو سستی گاڑیوں کے بہتر انتخاب ملیں گے جبکہ مقامی آٹوموٹیو انڈسٹری کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی برقرار رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے معیار، اخراج اور حفاظتی اصولوں پر سختی برقرار رکھی تو یہ پالیسی پاکستان کی آٹو مارکیٹ کو متوازن کر سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، کم معیار کی گاڑیوں کی بھرمار مقامی پیداوار اور سڑکوں کی
حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.