اسلام آباد (تازہ خبر) — وزارتِ خارجہ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ سابق سینیٹر اور جماعتِ اسلامی کے رہنما مشتاق احمد خان کی رہائی اور وطن واپسی آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔
مشتاق احمد خان کو اسرائیلی افواج نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ غزہ کے محاصرے کے خاتمے کے لیے جانے والے بین الاقوامی "گلوبل صمود فلوٹیلا (Global Sumud Flotilla)" کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
The Ministry of Foreign Affairs of Pakistan, through its Embassy in Amman, is working tirelessly to secure the safe evacuation of former Senator Mushtaq Ahmad Khan. With the invaluable assistance of the Jordanian government, we are hopeful that the process can be successfully…
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) October 6, 2025
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ عمان میں مشتاق احمد خان کے محفوظ انخلا کے لیے مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ اردن کی حکومت نے اس معاملے میں غیر معمولی تعاون فراہم کیا ہے۔
میں "صمود غزہ فلوٹیلا" میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب، اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس… https://t.co/n6b22ZDmxj
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 2, 2025
وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:
“ہم امید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ تمام گرفتار کارکنان، بشمول مشتاق احمد خان، محفوظ و سلامت واپس آئیں۔”
انہوں نے پاکستانی وفد کی شرکت کو “انسانیت کی خدمت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے وقار اور فوری واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کر رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کا بیان
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ ایک یورپی دوست ملک کے ذریعے حاصل اطلاعات کے مطابق مشتاق احمد خان اسرائیلی حراست میں محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
بیان کے مطابق انہیں مقامی قانون کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اگر ڈی پورٹیشن آرڈر جاری ہوئے تو ان کی پاکستان واپسی چند دنوں میں ممکن ہو گی۔
“گلوبل صمود فلوٹیلا” اسپین سے روانہ ہوا تھا اور اس میں 45 بحری جہاز شامل تھے جن میں دنیا بھر کے کارکنان، سیاستدان اور ماحولیاتی کارکنان شامل تھے، جن میں گریٹا تھنبرگ بھی شریک تھیں۔
یہ قافلہ غزہ کے محاصرے کو توڑنے کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہا تھا جب اسرائیلی افو
اج نے اسے روک لیا۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.