اسلام آباد: انکوائری کمیشن برائے زبردستی گمشدگیوں نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ستمبر 2025 کے دوران 113 گمشدہ افراد کے کیسز نمٹائے گئے جبکہ 14 لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔
کیسز کی مجموعی صورتحال
رپورٹ کے مطابق مارچ 2011 سے ستمبر 2025 تک کمیشن کے پاس کل 10,636 کیسز آئے۔ ان میں سے 8,986 کیسز حل کر دیے گئے جبکہ 1,650 کیسز تاحال زیرِ سماعت ہیں۔
کمیشن نے دعویٰ کیا کہ گمشدہ افراد کے کیسز نمٹانے کی شرح 84.48 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی سے ستمبر کے دوران 289 کیسز نمٹائے گئے جو اوسطاً ماہانہ تقریباً 96 کیسز بنتے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے سہولیات
کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ گمشدہ افراد کے خاندانوں کو مختلف سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں جن میں گمشدہ افراد کے بچوں کے لیے فارم B کا اجراء کیا گیا ہے ۔
سرکاری ملازمین کے لاپتہ ہونے کی صورت میں ان کے اہل خانہ کو پنشن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔
سول سوسائٹی اور اقوام متحدہ کے مطالبات
گزشتہ ماہ ایک سول سوسائٹی تنظیم نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ زبردستی گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر میکنزم بنایا جائے۔
اس سے قبل اگست 2024 میں اقوام متحدہ نے بھی پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ انفورسڈ ڈسپیرنسز کے خلاف بین الاقوامی کنونشن کی توثیق کرے اور متاثرین، خاص طور پر نسلی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل مختص کرے۔
دسمبر 2024 میں سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زبردستی گمشدگیوں کے مسئلے کا مستقل حل صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ممکن ہے۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.