اسلام آباد (29 ستمبر 2025) — وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ درست تھا کیونکہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کو کم کرنے اور خطے کو بڑی تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان نے ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے کیوں نامزد کیا؟
جون 2025 میں حکومتِ پاکستان نے باضابطہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ رکھی گئی کہ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کے مہینے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن سفارتی کردار ادا کیا۔
بھارت نے 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر فضائی کارروائی کی، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی ردعمل دیا۔ صورتِ حال خطرناک موڑ اختیار کر گئی اور ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے۔ تاہم، امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت کے نتیجے میں دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہوئے۔
شہباز شریف کا مؤقف
لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعظم نے کہا:
"اگر صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان مزید تباہی اور جانی نقصان ہوتا۔"
وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا، جن میں ایتھوپیا اور مصر کے درمیان تنازع اور یوکرین کی صورتحال شامل ہے۔
عالمی سطح پر پذیرائی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سفارت کاری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک "خطرناک ایٹمی جنگ" کو روک دیا۔ اس بیان نے ان کے نوبیل انعام کے لیے نامزدگی
کو مزید تقویت بخشی۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.