اسلام آباد (ہیلتھ ڈیسک): دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ذہنی امراض طکے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر پریشانی (Anxiety) اور ڈپریشن (Depression) نوجوانوں اور بڑوں دونوں میں عام ہوتے جا رہے ہیں، اور اگر بروقت ان کا علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
وجوہات
ماہرین کے مطابق، نیند کی کمی، سماجی دباؤ، غیر متوازن غذا اور مسلسل اسٹریس ڈپریشن اور پریشانی بڑھانے والے بڑے عوامل ہیں۔ کورونا کے بعد کے حالات اور معاشی دباؤ نے بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
علامات
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو ہر وقت بے چینی، تھکن، نیند نہ آنا، بھوک میں کمی یا زیادہ کھانے کی عادت ہو، یا ہر معاملے میں منفی سوچ آنے لگے تو یہ ڈپریشن اور انزائٹی کی نمایاں علامات ہیں۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
ماہرین نے کہا ہے کہ ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش، صحت مند غذا کا استعمال، اور سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند بہت ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، ریلیکسیشن ایکسرسائز، ڈیپ بریتھنگ اور فیملی و فرینڈز کے ساتھ وقت گزارنا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ہے۔
ماہرین کی رائے
ہیلتھ ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ اگر علامات شدت اختیار کر جائیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہو تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ خود علاج سے گریز کریں اور بروقت رہنمائی لیں۔



Post A Comment:
0 comments:
If you share something with us please comment.